84 لاکھ کی گھڑی، ٹویوٹا فارچیونر اور کروڑوں کے تحائف! ثاقب چدھڑ کے دعوے پر مومنہ اقبال کی تردید، آنکھوں میں آنسو آ گئے
لاہور کے رنگ بھی نرالے ہیں اور یہاں کی شوبز انڈسٹری کی کہانیاں اس سے بھی زیادہ چونکا دینے والی! سوشل میڈیا اور یوٹیوب کی دنیا میں جب بھی کوئی طوفان اٹھتا ہے، تو سب سے پہلے لاہور کے باسیوں کی ہی توجہ حاصل کرتا ہے۔ آج کل شہرِ لاہور میں جس موضوع پر سب سے زیادہ بحث ہو رہی ہے، وہ ہیں معروف اداکارہ مومنہ اقبال اور یوٹیوبر ثاقب چدھڑ۔
کیا تھا پورا معاملہ؟
کچھ روز قبل سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں دعویٰ کیا گیا کہ ثاقب چدھڑ نے پاکستانی شوبز کی دلکش اداکارہ مومنہ اقبال کو کروڑوں روپے کے تحائف سے نوازا ہے۔ ان تحائف میں مبینہ طور پر 84 لاکھ روپے مالیت کی قیمتی گھڑی اور ایک ٹویوٹا فارچیونر جیسی لگژری گاڑی بھی شامل تھی۔ یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیلی اور ہر طرف اسی کا چرچا ہونے لگا۔ لاہور کے کیفے ہوں یا سوشل میڈیا کے پینلز، بس یہی زیرِ بحث تھا کہ ماجرا کیا ہے۔
مومنہ اقبال کا ردِ عمل اور چھلکتے آنسو
جب یہ خبریں حد سے بڑھ گئیں تو اداکارہ مومنہ اقبال نے خاموشی توڑنے کا فیصلہ کیا۔ حال ہی میں ایک انٹرویو کے دوران جب ان سے ان افواہوں کے بارے میں پوچھا گیا تو وہ شدید ذہنی اذیت کا شکار دکھائی دیں۔ بات کرتے کرتے ان کی آنکھوں میں آنسو آ گئے اور ان کا گلا بھر آیا۔
مومنہ اقبال نے ان تمام دعووں کو سرسرے طور پر مسترد کرتے ہوئے کہا:
"لوگ بغیر کسی تحقیق کے کسی کی بھی عزت کے ساتھ کھیلنا اپنا فرض سمجھ لیتے ہیں۔ کیا ایک خاتون خود اپنے بل بوتے پر محنت نہیں کر سکتی؟ میرے بارے میں ایسی من گھڑت کہانیاں پھیلا کر مجھے اور میرے خاندان کو شدید ذہنی تکلیف دی گئی ہے۔"
انہوں نے مزید کہا کہ اس قسم کی بے بنیاد خبریں نہ صرف ان کی ذاتی زندگی کو متاثر کرتی ہیں بلکہ ان کی سالہا سال کی محنت اور کیریئر پر بھی سوالیہ نشان لگاتی ہیں جو کہ انتہائی افسوسناک ہے۔
لاہور والا کا نقطہ نظر
لاہور کی روایت رہی ہے کہ یہاں دل کھول کر باتیں ہوتی ہیں، لیکن کسی کی عزت پر کیچڑ اچھالنا ہماری تہذیب کا حصہ نہیں۔ ثاقب چدھڑ اور مومنہ اقبال کے اس معاملے نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا ہے کہ سوشل میڈیا پر ویوز اور لائکس کی دوڑ میں ہم اکثر اخلاقیات کی حدیں پھلانگ جاتے ہیں۔
ایک فنکارہ جو اپنی محنت سے اس مقام تک پہنچی ہے، اس کے بارے میں اس قسم کی من گھڑت کہانیاں جوڑنا کسی بھی طور پر مناسب نہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم سچائی جانے بغیر کسی پر بہتم نہ لگائیں۔
کیا آپ کے خیال میں سوشل میڈیا پر اس طرح کی افواہیں پھیلانے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی ہونی چاہیے؟ ہمیں کمنٹ سیکشن میں ضرور بتائیں!
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں